
اسلام آباد کے علاقے ترنول میں ایک سنسنی خیز اور خوفناک واقعہ پیش آیا جہاں پولیس اور فوڈ اتھارٹی نے کارروائی کر کے ایک خفیہ اور غیرقانونی سلاٹر ہاؤس سے تقریباً 25 من (یعنی تقریباً ایک ہزار کلو) گدھوں کا گوشت برآمد کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہاں موجود تقریباً 50 سے 60 زندہ گدھوں کو بھی بازیاب کرایا گیا جنہیں نہایت خراب اور گندے حالات میں رکھا گیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب خفیہ اطلاعات ملی تھیں کہ ایک فارم ہاؤس کی آڑ میں غیرقانونی طور پر گدھوں کو ذبح کیا جا رہا ہے۔
کارروائی کے دوران ایک غیرملکی شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس پر شبہ ہے کہ وہ اس پورے گھناؤنے دھندے کا اہم کردار ہے۔ اس واقعے کے بعد فوری طور پر ایف آئی آر درج کی گئی اور ضبط شدہ گوشت کو تلف کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تاکہ یہ گوشت کسی صورت عوام کے کھانے میں شامل نہ ہو پائے۔ حکام کے مطابق خدشہ ہے کہ اس گوشت کا کچھ حصہ شاید پہلے ہی مارکیٹ میں یا بیرون ملک بھیجا جا چکا ہو۔
مزید جانیے.
روس کا مسافر بردار طیارہ حادثے کا شکار،50 افراد لقمہ اجل بن گئے.
مہیرین چودھری: ایک ایسی ٹیچر جنہوں نے بچوں کی خاطر جان دے دی.
اونٹ کے آنسو، سانپ کے زہر کا حیران کن اور سستا علاج.
دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ چین میں گدھوں کے گوشت اور کھال کی بڑی مانگ ہے۔ وہاں گدھے کے جسم کے مختلف حصوں کو دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں گدھوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت نے باضابطہ طور پر چین کو گدھوں کی کھال اور دیگر مصنوعات کی برآمد کی منظوری بھی دے دی ہے، جس کے لیے گوادر میں ایک باقاعدہ پلانٹ بھی قائم کیا گیا ہے۔ لیکن ترنول کا یہ واقعہ اس بڑھتی ہوئی قانونی تجارت کے ساتھ غیرقانونی دھندے کے پھیلاؤ کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔
اسلام آباد فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے اب اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ اس نیٹ ورک کا دائرہ صرف اسلام آباد تک محدود ہے یا دیگر شہروں تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کن ہوٹلوں یا گوشت فروشوں کو یہ گوشت فراہم کیا جا رہا تھا۔
عوام کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ گوشت خریدتے وقت ہوشیار رہیں، صرف رجسٹرڈ اور منظور شدہ دکانداروں سے گوشت خریدیں، اور اگر کسی جگہ پر مشتبہ سرگرمی نظر آئے تو فوراً متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ خوراک سے متعلق قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا